بھارت میں4 ہزار پائلٹس کے پاس جعلی لائسنس ہونے کا انکشاف

بھارت میں 4 ہزار پائلٹس کے پاس جعلی لائسنس ہونے کا 
انکشاف ہوا ہے، بھارتی شہری ہوابازی کے واچ ڈاگ نے چار ہزار پائلٹوں کے لائسنز مشکوک ہونے کا اعتراف کیا،بھارتی قومی ایئرلائنز اور انڈوگو ایئرلائنز کے2 پائلٹس کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی قومی ایئرلائنز سمیت دیگر ایئرلائنز کے چار ہزار تک پائلٹس کے لائسنس مشکوک اور جعلی ہیں۔
اس حوالے سے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ بھارتی شہری ہوابازی کے واچ ڈاگ نے چار ہزار پائلٹوں کے لائسنز مشکوک ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ یہ اعتراف اس وقت کیا گیا جب بھارت میں دو پائلٹوں کی گرفتاری کی گئی۔ ان دو پائلٹس میں بھارتی انڈوگو ایئرلائنز کی معطل لیڈی پائلٹ پرمیندرکور کو جب جعلی مارک شیٹ دکھانے اور بھارتی قومی ائیرلائنزکے کیپٹن جے کیورما کو  لائسنز لینے کیلئے جعلی مارک شیٹ پیش کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔


ڈائریکٹر جنرل بھارتی شہری ہوابازی کے مطابق گرفتار ان دو پائلٹس کے علاوہ مزید دو پائلٹس میناکشی سہگل اور سوران سنگھ کے لائسنز بھی مشکوک ہیں۔ واضح رہے پاکستان میں بھی مشکوک ڈگریوں اور جعلی لائسنسز والے پائلٹس سامنے آئے ہیں۔ ان کی تعداد 262 بتائی گئی ہے۔ وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں بتایا کہ پاکستان کی تمام فلائٹس میں 753 پائلٹ ہیں، پاکستانی پائلٹس بیرونی ایئرلائن میں 107ہیں، پی آئی میں 450 پائلٹس کام کررہے ہیں، ایئربلیو میں 87، سرین ایئر 47 کام کررہے ہیں، سابق شاہین ایئرلائن میں68 پائلٹ تھے، اور مختلف ایئرلائن چارٹرڈ، اور دوسری ایئرلائن میں 101کے لگ بھگ کام کررہے ہیں۔
مشکوک ڈگریوں والے پائلٹس کی تعداد 262 ہے، جن میں پی آئی اے کے 141پائلٹس ہیں، یہ سارے پائلٹ مشکوک ہیں۔ 121 پائلٹس ایسے ہیں جن کی فرانزک انکوائری سے پتا چلا کہ ان کا ایک پیپر بوگس تھا۔ ان کی جگہ کسی اور شخص نے پیپر دیا تھا۔ اسی طرح دو بوگس پیپرز والے 39، تین بوگس پیپر والے 21، چار بوگس پیپرز والے 15پائلٹس، پانچ والے 11، اسی طرح 6 بوگس پیپرز والے پھر11پائلٹس، سات بوگس پیپرز والے 10پائلٹس اور آٹھ پیپرز والے 34 پائلٹس ہیں، کل پیپرز آٹھ تھے۔
یعنی 34 پائلٹس ایسے ہیں جنہوں نے ایک بھی پیپر نہیں دیا۔ اسی طرح لائسنسز کی اقسام بھی ہوتی ہے، ایک کمرشل پائلٹ لائسنس،اور دوسرا ایئرلائن ٹرانسپورٹ پائلٹ لائسنس ہوتے ہیں۔ سی پی ایل 109اوراے ٹی پی ایل 153پائلٹس ہیں۔ تاہم پاکستان میں ان پائلٹس کے خلاف کاروائی شروع کردی گئی ہے۔

No comments:

Post a Comment